منگلورو 18 / دسمبر (ایس او نیوز) جنوبی کینرا میں ہندوتوا وادیوں اور سنگھیوں کی غیراخلاقی پولیس گیری کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے اور آئے دن کسی نہ کسی جگہ سے ہندو لڑکیوں سے روابط یا چھیڑ چھاڑ کا الزام لگاتے ہوئے مسلم نوجوانوں پر حملے کی خبریں مل رہی ہیں ۔
اب ایک ہندو لڑکی کا پیچھا کرنے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا الزام لگاتے ہوئے مسلم نوجوان کو ٹیلی فون کھمبے سے باندھ کر پیٹنے کی تازہ واردات ملکی کے کریکاڈو نامی علاقے میں پیش آئی ہے ۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق سنگھیوں کے حملے کا شکار ہونے والا داود نامی شخص ہلے انگڈی کے کوپل کا رہنے والا ہے ۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے 13 دسمبر کو اپنی بائک پر ایک ہندو لڑکی کا پیچھا کیا اور اس کے ساتھ ناشائشہ برتاو کیا ۔ جب یہ بات لڑکی کے والد اور اس کے دو دوستوں کے علم میں آئی تو انہوں نے 17 دسمبر کو داود کو اس وقت گھیر لیا جب وہ اسی علاقے میں چکر لگاتا ہوا نظر آیا ۔ ہندوتوا وادی نوجوانوں کے گروپ نے اسے ایک غیر آباد علاقے میں لے جا کر ٹیلی فون کے کھمبے سے باندھا اور بری طرح پیٹائی کرنے کے بعد پولیس کے حوالے کیا ۔
پولیس نے لڑکی کے والدین کی طرف سے درج شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم داود کو اپنی تحویل میں لیا ہے اور اس پر پوکسو ایکٹ کے تحت کیس درج کر دیاہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ شخص داود نے بھی اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کے خلاف ملکی پولیس اسٹیشن میں جوابی شکایت درج کروائی ہے ۔